30 اکتوبر 2026 - 23:38
حصۂ اول | ایران کے جوہری ڈاکٹرائن پر نظرثانی قومی مطالبہ بن گئی ہے، خطیب جمعہ تہران

حجت الاسلام والمسلمین حاج علی اکبری نے نماز جمعہ کے دوسرے خطبے میں کہا: جوہری نظریے پر نظرثانی کا موضوع اٹھانا ایران کی قوم کے تلخ تجربات کا نتیجہ اور بازدارندگی (روک تھام) کی ضرورت کے بارے میں آگاہی اور بصیرت میں اضافے کا ثمرہ ہے۔ جوہری نظریے پر نظرثانی کا مطالبہ، ایرانی قوم کی امن و سلامتی کی ضرورت اور باوقار زندگی کے قومی حق میں پیوست ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || نماز جمعہ تہران کے اس ہفتے کے خطیب، حجت الاسلام والمسلمین حاج علی اکبری نے نماز جمعہ کے دوسرے خطبے میں کہا: جوہری نظریے پر نظرثانی کا موضوع اٹھانا ایران کی قوم کے تلخ تجربات کا نتیجہ اور بازدارندگی (روک تھام) کی ضرورت کے بارے میں آگاہی اور بصیرت میں اضافے کا ثمرہ ہے۔ جوہری نظریے پر نظرثانی کا مطالبہ، ایرانی قوم کی امن و سلامتی کی ضرورت اور باوقار زندگی کے قومی حق میں پیوست ہے۔

حصۂ اول | ایران کے جوہری ڈاکٹرائن پر نظرثانی قومی مطالبہ بن گئی ہے، خطیب جمعہ تہران

اس ہفتے تہران کے جمعہ کے خطیب، حجت الاسلام والمسلمین حاج علی اکبری نے ملک کے جوہری ڈاکٹرائن پر نظرثانی کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:

جوہری ڈاکٹرائن پر نظرثانی کا مطالبہ عجلت زدگی یا جذباتی ردعمل سے جنم نہیں لیتا، بلکہ ایران کی قوم کی آگاہی اور امریکہ کی بدعہدیوں کے سامنے تاریخی تجربے سے پیدا ہوا ہے اور قوم کے امن اور باوقار زندگی کے حق میں جڑا ہوا ہے۔

جب ہم نے یہ مطالبہ نماز جمعہ میں پیش کیا تو واضح تھا کہ دشمن پر بہت دباؤ پڑا ہے اور یہ دشمن کے دل پر ایک میزائل کی طرح لگا۔ لیکن اس کے برعکس، اس نے ہماری قوم کو میں خوشی اور رضامندی کی لہر دوڑا دی؛ کیونکہ ہم نے ان کا مطالبہ بیان کیا۔

ملک کے اندر، رہبر معظم امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے پرچم تلے اتحاد اور یکجہتی قائم ہے اور ایران کا موقف بھی واضح ہے؛ اعلان کردہ شرائط پر عمل ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

جبکہ ملک کے اندر وحدت اور ہم آہنگی موجود ہے، مخالف محاذ آج انتشار، بکھراو اور بے بسی کا شکار ہے۔

ہماری عوام ایران کے جوہری نظریے پر نظرثانی چاہتے ہیں اور واقعی، ہمیں جوہری نظریے میں نظرثانی کیوں نہیں کرنی چاہیے؟ ایران کی قوم نے گزشتہ سالوں میں امریکہ کے رویے سے دردناک تجربات کیے ہیں؛ مخالف فریق نے ایران کی قوم کی سرخ لکیروں کو عبور کیا، انقلاب کے شہید رہبر کو شہید کیا اور اپنے وعدوں اور معاہدوں پر قائم نہیں رہا۔

مخالف فریق کی بدعہدیوں کے تجربے نے کچھ سکیورٹی حسابوں میں نظرثانی کی ضرورت کو ایک سنجیدہ موضوع بنا دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha